admin@chamkani.net | 0335-9687717

پختونخوا کی تاریخ میں ایسے بزرگانِ دین ، عالم دین اور اولیاء کرام ہیں جن کا ذکر تاریخ کے اوراق سے بہت کم ملتا ہے۔اِ ن بزرگان دین میں ایک نام چمکنی کے حضرت خواجہ حاجی شیخ دریا ؒ خان بابا چمکنی ہے۔عام طور پر لوگ چمکنی کو صرف حضرت میاں عمرؒ بابا چمکنی کے نام سے یاد کرتے ہیں لیکن اس عظیم ہستی کوجو کہ حضرت میاں عمرؒ بابا چمکنی کے اُستاد حضرت حاجی دریا خان بابا چمکنی کے نام سے ناواقف ہے۔حضرت حاجی دریا خان چمکنی قام یاسین خیل( چمکنی )تھے۔اور اپنے قبیلے اور قوم کے بڑے خان اور قبائلی سردار تھے۔ لیکن آپ نے دین اور اسلام کی سربلندی کے لئے دنیا کی شہنشاہیت کو چھوڑ کر فقیری اختیار کی۔اس کی ایک واضح مثال جو کہ یہاں کے بزرگ بیان کرتے ہے کہ موجودہ قبرستان (حاجی دریا خان باباؒ ) جس میں آپ کا مزار بھی ہے آپ نے خلقِ خدا کے لئے وقف کر دی تھی۔جس کا کل رقبہ ۱۰۰۰ کنال یعنی(۲۰۰ جیرب) بنتا ہے۔لیکن اس عظیم ہستی کے کارناموں اور ان کی علمی صلاحیتوں سے زمانہ ناواقف ہے۔آپ بلند پایہ عالم تھے۔پہلے آپؒ حضرت سیدنا آدم بنوری ؒ کے مرید تھے اور آخر میں حضرت کاکا صاحبؒ کے مرید بنے۔ آپؒ حضرت کاکا صاحب ؒ کے ممتاز خلفاء میں شمار ہوتے ہیں۔بعد میں آپؒ نے بھی علم و فیوض کا سلسلہ جاری رکھا۔آپ ؒ کا مزار چمکنی گاؤں کے( محلہ قادہ خیل)کے قبرستان حاجی دریا خان بابا میں واقع ہے۔مزار مبارک موسمی اثرات اور پرانہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ چکا ہے ۔اگر اس کی مرمت پر توجہ نہ دی گئی تو یہ مزید خراب ہو سکتا ہے ۔پہلے تو آپؒ کا عرس مبارک منایا جاتا تھا لیکن تقریباً ۱۵ ،۱۶ سال سے یہ سلسلہ اب بند ہے۔