admin@chamkani.net | 0335-9687717

ٓٓاحمد شاہ ابدالی جب مر ہٹوں کے خلاف جہاد کو جاتے ہوے پشاور پہنچے تو کئی مر تبہ چمکنی میں حضرت میا ں عمرؒ صاحب کے خدمت میں حاضر
ہوئے پا نی پت کی معرکے کو جاتے ہوئے میا ں صاحب نے نہ صرف احمد شاہ باباکی کامیا بی کے لئے دعا فرما ئی بلکہ اُن کی ہدایت پر ان کے سترہ(17) ہزار مریدوں کا لشکر احمد شاہ کے ساتھ شریک جہاد ہوا اس لشکر میں میا ں صا حب کے چھو ٹے صاحبزادے میا ں گل عبید اللہ بھی شامل تھے۔

پانی پت کی فتح کے بعد واپسی پر احمد شاہ بابا نے حضرت میا ں عمرؒ صاحب کا شکریہ ادا کیا اور بہت سی جاگیر انکی خا نقاہ اور مدرسے کے لئے وقف کر دی۔

اس وقف شدہ جاگیر کے بارے میں پہلی مرتبہ خالد وقارچمکنی رکن صوبائی اسمبلی سرحد نے وزیر اوقاف سے ان کے متعلق معلوم کیا تو اس نے اس کی تفصیل پیش کی جو کہ درج ذیل ہے۔

(وزیر صاحب نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ محکمہ کی کل جائیداد کا خاصہ حصہ حضرت میا ں عمرؒ صاحب کی وقف ملکیت پر مشتمل ہے جو کہ ان اضلاع میں واقع ہیں)
تفصیل

  • چارسدہ (ترناب۔تنگی)
  • مردان (خاؤد۔طورو خاص۔گھڑی دولت زئی۔میاگانو کلے۔غنڈو کلے
  • کوٹ اسماعیل زئی۔شہبازگھڑی۔مچھی۔سنگ بھٹی۔چک شیوہ
  • شریف آباد۔گجر گھڑی۔غز کلے۔عربی بانڈہ۔جلالہ)
  • صوابی (بام خیل ۔ادینہ)
  • کوہاٹ (بلی ٹنگ۔بانڈہ موسم خان)
  • پشاور (چمکنی)

وقف شدہ جائیداد جس میں زرعی اراضی 45213 کنال 3مرلہدکانات 16عدد
کالو شاہ ضلع مردان میں 36110کنال اراضی فی الحال مقدمہ (عدالت عالیہ پشاور) میں زیر سماعت ہے۔
بقایہ رقبہ سے جو سالانہ آمدنی حاصل ہوتی ہیں 3324652روپے ہیں