admin@chamkani.net | 0335-9687717

تاریخ کے حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ چمکنی ایک شخص کانام تھاجن کو ’’چمکن‘‘ کہا جاتا تھا۔ جو رفتہ رفتہ بدلتا ہوا چمکنی رہ گیا اور اس شخص کا تعلق غوریہ قبیلے سے تھا جو نسل بہ نسل افغانیہ سے ملتا ہے جو حضر ت خالد بن ولیدؓ کے دور میں موجود تھے اور اس وقت اس کے دو قبیلے بنگش اور حجاز تھے ۔خالد بن ولیدؓ بھی بنگش قبیلے سے تھا یہ قبیلے بنی اسرائیل کے ظلم وستم سے تنگ آکر حجاز اور غور میں اور اس کے بعد غزنی اور قندھار میں آباد ہوگئے۔سلیمان ؑ کے بعد حضور ﷺ آئے لیکن ان کا درمیانی عرصہ تقریباً 1500سال تھا اس وقت خالدبن ولیدؓ نے اپنے رشتہ داروں کو 8ھ میں خط لکھا کہ آپ مدینے آئے اور حضور ﷺ پر ایمان لے آئے جو کہ غور (افغانستان) میں آباد تھے۔چنانچہ قیس کی سربراہی میں ایک وفد مدینے آئے اور حضور ﷺ سے ملے اور اسلام قبول کیا۔اور حضور ﷺ نے ان کے نسل کیلئے دعا کی۔یہ لوگ واپس اپنے گھروں کو آئے اور تبلیغ کا کام شروع کیا ۔قیس کا شجرہ نسب تقریباً 24 نسلوں سے ہوتا ہوا چمکنی سے جا ملتا ہے۔

چمکن کے جواولاد موجودہ علاقے چمکنی آئے اور آباد ہوئے تو و ہ محلہ میاں گان کے ساتھ جو (ڈھیری) ہے اس میں آباد ہوئے جس کو ڈھیر ی اب بھی کہتے ہے۔کچھ عرصہ بعد ان لوگوں اور(غالباً) ہزارخوانی والوں کے درمیان لڑائی ہوئی اور ان میں سے کچھ لوگوں نے تیراہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں آباد ہوئے جو کہ اب بھی چمکنی کے نام سے مشہور ہے۔اور جولوگ یہاں باقی رہ گئے ان کے اولاد اور نسل اب بھی یہاں آباد ہیں جو کہ صحیح معنوں میں چمکنی کے اصل وارث ہیں جن میں قادر(قادہ خیل)یاسین(یاسین خیل )،مصطفی (مصطفی خیل ) خواجہ(خواجہ خیل) عبد ا ﷲ(عبد الخیل) جن کے ہاں حاجی دریا خان بابا اور اس بھائی فتح خان پیدا ہوئے۔ پھر غوری (غوری خیل) حیدر (حیدر خیل) چغہ خیل آباد ہو گئے۔ اور باقی یہاں چمکنی میں جو لوگ اور محلے آباد ہے ۔یہ سب کے سب باہر سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے۔

آج سے صدیوں پہلے وسطی ایشیا ء اور برصغیر کے درمیان تجارتی منڈی کا مرکز چمکنی تھا۔اور بعض بزرگوں کے اقوال کے مطابق موجودہ مسجد حاجی حنان اور اس کے ساتھ جوملحقہ علاقہ ہے یہ منڈی یہاں ہوا کرتی تھی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ منڈی اپنی اصل حالت برقرار نہ رکھ سکی اور زمانے کے ادوار سے اوجھل ہوگئی جو کہ شایدہی کسی کو معلوم ہو۔