admin@chamkani.net | 0335-9687717

Khalid Waqar Chamkani

Posted by Moxet in Proud Sokaniwaal | 0 comments

khalid-waqar-chamkani

Khalid Waqar Chamkani EX MPA, General Sectary Peshawar Jamiat Ulema-e-Islam (F) born and raised in Yaseen Khel Chamkani.

خالد وقار چمکنی12 دسمبر 1961کوچمکنی گاؤں کے محلہ یاسین خیل کے ایک متواسط خاندان سے تعلق رکھنے والے محمد یونس کے گھر پید ا ہوئے۔پرائمری تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر1 چمکنی سے حاصل کی اور پھر اپنے گاؤں کے ہائی سکول سے 1977میں میٹرک(سائنس) کا امتحان پاس کیا اس کے بعد 1979میں گورنمنٹ کالج پشاور سے ایف اےF.Aپاس کیا اور 1981کو بی اےB.Aکا امتحان بطور پرائیویٹ سٹوڈنٹ پشاور یونیورسٹی سے پاس کیا ۔ ایل ایل بی 1985-87گومل یو نیورسٹی D.I.Khanسے کیا۔آپ نے وکالت 1990میں پشاور سے شروع کی اور اسی میں شہرت پائی اور تھوڑے عرصے میں اچھے قانون دان بن گئے اور آپکا نام بہترین وکلاء میں شامل ہوگیا اور پھر 1992میں جائنٹ سکرٹری پشاور بار ایسوسی ایشن کے آٹھ امیدواروں میں صرف آپ اکیلے کامیاب ہوئے اور صرف چار سال کے مختصر عرصے کے بعد آپ 1996میں ممبر ایگزیکٹو بار ایسو سی ایشن منتخب ہوئے اس کے بعد 2000کو جنرل سیکرٹری بار ایسو سی ایشن کا انتخاب لڑا اور آپ نے 328ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی اور آپ کے مخالف کو صرف 160ووٹ ملے آپ شروع ہی سے اپنے گاؤں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور مختلف سماجی اور فلاحی کاموں میں بھڑ چھڑ کر حصہ لیتے آپ کرکٹ کے ایک اچھے آل راونڈر تھے اور ساتھ ساتھ گاؤں کی سیاست میں بھی حصہ لیتا رہا مگر آپ سے پہلے آپ کے خاندان میں کسی نے سیاست نہیں کی ۔
آپ کی فلاحی و سماجی کاموں کو دیکھ کر لوگ چاہتے تھے کہ آپ کی طرح ان کو ایک ا چھارہنما مل جائے ۔چنا نچہ جب پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات ہو رہے تھے تو لو گوں نے آپ پر اعتماد کر کے آپ کو اپنا ناظم منتخب کیا اور جولائی 2001کو 2400ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور آپ کے مخا لف کو 1200ووٹ ملے ۔آپ 2001کو L L M(Bar At Law)کے لئے انگلینڈ گئے لیکن جب جنرل الیکشن 2002ہو رہے تھے ۔ توآپ 5جنوری 2002کو واپس پاکستان آگئے اور آپ نے ناظم کا سیٹ چھوڑا اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہا مگر کو ئی بھی پا ر ٹی آپ کو ٹکٹ نہیں دے رہی تھی کیو نکہ آپ کا مقابلہ اپنے علاقے کے بڑ ے سیا ستدان (ہدایت ا للہ خان چمکنی ) جو کہ دو مرتبہ ANP کے ٹکٹ پر کامیاب ہوکر دونو ں مر تبہ صوبا ئی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو ئے تھے۔اور یہ حلقہ ANPکا گھر سمجھا جا تا تھا۔اسلئے کو ئی بھی پارٹی خالد وقار کو ہدایت ا للہ خان چمکنی کے مقابلے میں ٹکٹ نہیں دے رہی تھی ۔
مگر جو اللہ کو منظور اس کو کون روک سکتا ہے۔افغانستان پر امریکہ کے حملے اور طالبان کی اسلامی حکومت کے ہٹانے کے بعد حا لا ت کو دیکھ کر تمام مذ ہبی جما عتیں ایک نشان او رایک جھنڈے کے نیچے الیکشن لڑنا چاہتے تھے اس لئے سب نے اپنے اختلافات چھوڑ کر ایک گروپ بنایا اور اس کو متحدہ مجلس عمل MMAکا نام دیا گیا جس کا صدر مرحوم احمد شاہ نورانی تھے۔
انتخابات قریب آرہے تھے اگر کوئی بھی خالد وقار چمکنی کو ٹکٹ نہیں دے رہی تھی آپ نے ارادہ کیا کہ آپ آذاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑے گے ۔مگر آپ کی بحیثیت ناظم کار کردگی اور عوامی مقبولیت دیکھ کر MMAکی سب سے بڑی جماعت جمیعت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ (JUI-F)نے آپ کو ٹکٹ دیاچمکنی کے عوام کیساتھ ساتھ علاقے کے غریب و غیرت مند اور اسلام پسند عوام نے آپکا ساتھ دیا اور جو طوفان طالبان اور افغانستان کے مظلوم عوام کے حق میں اُٹھا تھا اس کو کون روک سکتا تھا اور پھر وہ دن بھی آگیا کہ بڑے بڑے جاگیر دار ،دولت مند اور سیاستدان اس طوفان کے سامنے نہ ٹہر سکے اور 10اکتوبر 2002کو PF11سے صوبائی اسمبلی کے لئے خالد وقار چمکنی نے 8330ووٹ لیکر ہدایت اللہ خان چمکنی کو شکست دی اور اس طرح تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی بھی مذہبی جماعت نے اس حلقے میں کامیابی حاصل کی ۔
آپ مندرجہ ذیل کمیٹیوں کے ممبر ہیں
سٹینڈنگ کمیٹی انڈسٹری کا چئیر مین ، سپیشل کمیٹی ریگی للمہ کا چیئر مین ، سپیشل کمیٹی ایکسٹرنل ریکال ڈسٹرک ناظمین کا چئیرمین
پبلک اکاوئنٹ کمیٹی(PAC)کاممبر ، ا یڈمینسٹریشن کمیٹی کا ممبر
ترقیاتی کام
آپ نے بطور ناظم اور MPAچمکنی میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ اور حلقے میں چودہ کروڑ کے ترقیاتی کام کئے جس میں کگہ ولہ اور موسی ٰ زئی کے لئے 50-50لاکھ روپے سوئی گیس کے لئے اور شیخ محمدی میں آٹھ کلومیٹر روڈ کے لئے ایک کروڑ اَسّی لاکھ روپے ، کچوڑی روڈ کے لئے 42لاکھ ، موسٰی زئی ہائی سکو ل کے لئے 35لاکھ اور دو ٹیوب ویل کے لئے 40لاکھ ، دو ٹیوب ویل شیخان کے لئے 40لاکھ ، اُرمڑ میانہ کے گرلز ہائی سکول کے لئے 40لاکھ ، شیخ محمدی گرلز ہائی سکول کے اَپ گریڈ کے لئے 20لاکھ، کگہ ولہ گرلز ہائی سکول کے لئے 20لاکھ، ماشو گگر گرلز ہائی سکول کے لئے 20لاکھ ، سلمان خیل بوائے مڈل سکول کے لئے 20لاکھ، ماشو خیل میں دو کلومیٹر سڑک کے لئے 30لاکھ اور ٹیوب ویل کے لئے 20لاکھ ، اُ رمڑ میانہ سٹرک لے لئے 17لاکھ ، اُرمڑ بالا میں ایک کلومیٹر سڑک کے لئے 17لاکھ ، پھندو ڈھیری سڑک کے لئے 17لاکھ، اُرمڑ پایان کے لئے دو ٹیوب ویل 40لاکھ، ماشو خیل کرہ خیل پرائمری سکول کے لئے 12لاکھ ، کچوڑی پرائمری سکول کے لئے 12لاکھ، اُرمڑ پایان گرلز سکول اس سال ہائی ہو جائے گا اُرمڑ میرہ کے لئے پرائمری سکول اس سال بن جائیگا
اور 50 لاکھ روپے تمام حلقے میں بجلی کے لئے ۔ اس کے علاوہ ایک کروڑ روپے کے گلیات اور راستے بنے ایک کلومیٹر سڑک کگہ ولہ 17لاکھ روپےCDMDمیں غریب آباد شیخ محمدی سٹرک 12لاکھ ، شیخ محمدی قبرستان روڈ تا بازید خیل 80لاکھ روپے منظور ہو چکے ہیں 16لاکھ روپے چمکنی میں گراونڈ کے لئے اور اس طرح32لاکھ روپے اُرمڑ میانہ میں گراونڈ کے لئے منظور ہو چکے ہیں ۔
اس کے علا وہ اُرمڑ بالا اور اُرمڑ میانہ کی جنازہ گاوں کے لئے 2-2لاکھ روپے اور ایک کلو میٹر سڑک اُرمڑ میانہ کے لئے 10لاکھ روپے اسکے علاوہ 5لاکھ غریب آباد قبرستان کے لئے اور موسٰی زئی گرلز پرائمری سکول کو مڈل کا درجہ دیا گیا اور مکمل ہوگیا ہے جس پر 18لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ انشاء اللہ بقایا کام بھی تکمیل تک پہنچ جائے گی ۔