admin@chamkani.net | 0335-9687717

دسمبر 1930 ؁ء کے آخری دن تھے DSP اور سٹی مجسٹریٹ پشاور مسٹر کول ایک گروپ کے ساتھ چمکنی پہنچے۔لوگ ان کو دیکھ کر جمع ہوگئے۔اور مسٹر کول ایک چھوٹی سی دیوار پر (بعض بزرگوں کے بقول مو جودہ مشین چوک ) کھڑے ہوکر تقریر شروع کردی اور کہا کہ آپ لوگ نادان نہ بنے اور عبدالغفار خان کا ساتھ نہ دیں وہ آپکو برباد کرنا چاہتا ہے۔
مسٹر کول کی یہ گستاخانہ تقریر سن کر ماسٹر محمد آیاز جوکہ (ماسٹر احمد نواز و ربنواز ) کا والد تھا رہ نہ سکاوہ کنکولہ سکول میں ہیڈ ماسٹر تھا اور سردیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے گاؤں آیا تھا اس نے مسٹر کول کو ہاتھ سے پکڑ کر زمین پر گھرایا کول نے پستول نکالکر ماسٹر آیاز پر گولی چلانا چاہی مگر وہاں پر موجود خان بہادر سرفراز خان نے ان سے کہا کہ اس سے حالات خراب ہو سکتے ہیں لہذا آپ ایسا نہ کرے اس پر مسٹر کول خاموش ہو گیامگر بعد میں ماسٹر محمد آیاز اور بیس20دوسرے افراد کو گرفتار کرکے ہری پور سنڑل جیل بیج دیا گیا۔اور ماسٹر محمد آیاز کو نوکری سے برخاست کردیا گیا۔ اس کے خلاف مقدمہ درج کیا اور پاکستان بننے کے بعد بھی یہ وہ نوکری پر بحال نہ ہو سکا۔
فروری 1930میں چمکنی کے محمد موسیٰ خان جو کہ(ثمین خان ،سرانجام اُستاد) کا والد تھا اور سید چن بادشاہ جوکہ (قاسم شاہ ،عارف شاہ) کا والد تھا اور ماسٹر محمد آیاز اور ان کے دیگر ساتھیوں پر دو دو سال قید بامشقت سنا دی گئی اس کے بعد علاقے کے مشہور عالم دین قاضی صاحب کڑوی میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔