admin@chamkani.net | 0335-9687717


پختونخوا کی تاریخ میں مذہبی اور علمی اعتبار میں حضر ت اخونددرویزہ (1238ھ) خوشحا ل خان خٹک 1689ء اور حضرت میاں محمد عمر ؒ چمکنی 1776ء کے خاندان کو زیادہ شہرت حاصل ہے ۔ مگر ان سب میں میاں محمد عمر ؒ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے مذہب ،سیاست،علم و ادباور رفاہِ عامہ کے ہر میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ۔
۱۲ صدی عیسوی میں سرزمین سرحد میں خادم دین کی حیثیت سے یہاں جن بزرگوں کا نام لیا جاسکتا ہیں ان میں حضرت میاں عمرؒ صاحب چمکنی بہت اہم اور نمایاں مقام کے مالک ہے۔آپ کو\”غوث العالم اور غوث الافغان \”بھی کہتے ہے۔
آپؒ کا نام محمد عمرؒ والد کا نام ابراہیم اور دادا کا نام کلا خان تھا ۔پشاور شہر سے مشرق کی طرف سات میل کے فاصلے پر واقع ایک مشہور گاؤں چمکنی میں سکونت کی مناسبت سے میاں صاحبؒ چمکنی کے نام سے مشہور ہے آپ ؒ قبائلی علاقے باجوڑمیں آباد (سڑبنی )افغانوں کی شیخی خیل شاخ کے مشہور قبیلے ترکانی کے موسیٰ خیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ ؒ 1673ء بمطابق ۱۰۷۴ھ کو صفرالمظفر کے مہینے میں جمعۃالمبارک کی صبح کو لاہور میں دریائے راوی کے کنارے آباد بھٹی قبیلہ کے قدیم شہر فریدآباد میں پیدا ہوئے۔
باجوڑ سے حضر ت کلا خان کی ہجرت اور لاہور میں آمد
آپ کے دادا کلا خان اپنے دور کے مشہور بزرگ اور قبائلی سردار تھے ۔ اس وقت پورے خطے میں کوئی منظم حکومت قا ئم نہ تھی ہر طرف افراتفری اور بد امنی کا دور تھا۔اور کسی کو سکون میسر نہ تھا ۔کلا خان یہاں کے حالات سے بد دل ہوکر گوشۂ عافیت کی تلاش میں ہندوستان کا رخ کیا۔جب آپ لاہور پہنچے تو علماء و فقراء کے قدردان بادشاہ شاہ جہان کو آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی ۔اس نے نہایت عقیدت اور احترام سے آپ کا خیر مقدم کیااور فرید آباد بطور جاگیر عنایت کیا۔کلا خان نے وہی سکونت اختیا ر کر لی ۔لاہور میں بہت جلد آپ کی بزرگی کا چرچا ہوااور یہاں اتنی شہرت ہوئی کہ تاجدار ہند شاہ جہان اور ولی عہد داراشکوہ بھی ان کے حلقہ معتقدین میں شامل ہوگئے۔
یہاں سکونت کے دوران جناب کلا خان نے حسینی سید حضرت سید محمد گیسودراز کے خاندان کے ایک پاک دامن خاتون کے ساتھ شادی کی۔ جن کے ہاں بعد میں حضرت میاں عمرؒ صاحب چمکنی کے والد حضر ت ابراہیم خان پید ا ہوئے ۔۱۷۸۸میں کلا خان اپنے بیٹے ابراہیم خان کے ساتھ رشتہ داروں سے ملنے اپنے وطن باجوڑ روانہ ہوئے تو راستے میں آپ کو کلاں نامی گاؤں میں شہید کیا گیا۔اور اپ کو وہی دفنا دیا گیا ابراہیم خان باجوڑ میں چند دن قیام کے بعد واپس فرید آباد آئے۔ان دنوں پشاور میں زبردست قحط پڑا اور لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے اور اس ہجرت میں چمکنی گاؤں کے سعید خان چغہ خیل بھی تھے اور آپ بھی فرید آباد میں قیام پزیر ہوئے۔قیام کے دوران ابراہیم خان کے ساتھ ان کے تعلقات استوار ہوئے جسکے نتیجے میں اپنے صاحبزادی سے ابراہیم خان کا نکاح کردیا ۔
ابراہیم خان کی وفات اور حضرت میاں عمرؒ صاحب کی چمکنی آمد
ابراہیم خان اہل سنہ والجماعہ کے پیروکار عالم صاحب کمال صوفی اور نجیب الطرفین بزرگ تھے ۔چنانچہ ابھی میاں عمر ؒ صاحب اور آپکے دوسرے دو بھائی محمد موسی ٰ اور محمد عیسی چھوٹے تھے کہ ابراہیم خان فرید آباد میں انتقال کرگئے اس وقت سعید خان واپس پشاور آچکے تھے لہذا جب آپکو ابراہیم خان کی وفات کی خبر ملی تو فوراً فرید آباد جاکر اپنی صاحبزادی ، نواسوں اور دوسرے رشتہ داروں کو چمکنی لے آئے اس کے بعد حضرت میاں عمرؒ صاحب چمکنی یہاں مستقل طور پر آباد ہوگئے۔
علم اور سلوک وطریقت
آپ سات آٹھ برس کی عمر تک فرید آباد میں رہے جہاں آپ نے صرف ۲۱ تک قرآن کریم پڑھنے کا ذکر کیا ہے والد کی وفات کے بعد چمکنی میں قیام پذیر ہوئے چونکہ ابتداء ہی سے سلوک و طریقت کا شوق غالب تھا اس لئے اپنی بیشتر وقت علماء و صلحا ء کی صحبت میں گزارتے تھے چمکنی میں آمد کے بعد آپ نے ساری دینی تعلیم پشاور کے علماء سے حاصل کی ۔ حضرت میاں عمرؒ صاحب چمکنی نے اپنے جن اساتذہ کا ذکر کیا ہے اس میں حضر ت مولانا شیخ المشائخ محمد یونسؒ ، حضرت مولانا محمد فاضل پاپینی ، حضرت مولانا شیخ سید قطب بنوری ؒ ،حضر ت مولانا شیخ المشائخ خواجہ محمد امین صدیقی بدخشی ،حضرت مولانا شیخ المشائخ عبدالغفور پشاوری ؒ اور چمکنی ہی کے حضر ت مولانا شیخ المشائخ حاجی دریا خان باباؒ المعروف حاجی صاحب قادہ خیل چمکنی شامل تھے۔اور جن علماء سے آپؒ نے معرفت اور طریقت حاصل کیا ان میں سے پہلے حضرت مولانا شیخ المشائخ شیخ سعدی بخاری لاہوری اور دو نامور خلیفہ حضر ت مولانا سید محمد قطب بنوری اور حضرت مولانا شیخ المشائخ سر اعظم محمد المعروف اٹک حضرت جی باباؒ سے روحانی فیض حاصل کیا۔اور جب حضرت شیخ سعدی ؒ لاہوری پشاورتشریف لائے تو اپ نے پہلے بار عقیدت مندانہ طور پر آپ کی خدمت میں حاضری دی ۔اور جب شیخ سعدیؒ کا وصال ہو ا تو اپ ان کے خلیفہ شیخ محمد یحیٰ ؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کے دست حق پر ست پر بیعت ہوئے۔جب آپ کے مرشد نے وفات پائی تو اس کے بعد آپ چمکنی میں مسند ارشاد وہدایت و دوعوت و تبلیغ اور اصلاح و ارشاد تادم آخر مصروف رہے۔
آپ نے دین اسلام کی خدمت کو اپنی زندگی کا نسب العین بنایا آپ ؒ کے روزمرہ کا معمول یہ تھا کہ بلا ناغہ ظہر کی نماز کے بعد اپنے باغیچہ میں(موجودہ قبرستان حضرت میاں عمرؒ صاحب چمکنی) مجلس ارشاد منعقد کرتے اور رات گئے تک یہ سلسلہ جاری رہتا اور دور دور سے طالبان حق آتے اور علم کی پیاس بجھاتے اس کے علاوہ آپ خود بھی دعوت و تبلیغ کی خاطر دور افتادہ علاقوں میں تشریف لے جاتے ۔
آپ ؒ کی خانقاہ کی شہرت و اثر ورسوخ
ٓٓاحمد شاہ ابدالی جب مر ہٹوں کے خلاف جہاد کو جاتے ہوے پشاور پہنچے تو کئی مر تبہ چمکنی میں حضرت میا ں عمرؒ صاحب کے خدمت میں حاضر ہوئے پا نی پت کی معرکے کو جاتے ہوئے میا ں صاحب نے نہ صرف احمد شاہ کی کامیا بی کے لئے دعا فرما ئی بلکہ آپ کی ھدایت پرآپ کے سترہ(17) ہزار مریدوں کا لشکر احمد شاہ کے ساتھ شریک جہاد ہوا اس لشکر میں میا ں صا حب کے چھو ٹے صاحبزادے میا ں گل عبید اللہ بھی شامل تھے۔پانی پت کی فتح کے بعد واپسی پر احمد شاہ بادشاہ نے حضرت میا ں عمرؒ صاحبکا شکریہ ادا کیا اور بہت سی جاگیر انکی خا نقاہ اور مدرسے کے لئے وقف کر دی۔اسکے ساتھ جن افغان امراء و سلاطین حضرت میاں عمرؒ بابا چمکنی کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں احمد شاہ ابدالی ، نادر شاہ افشار، تیمورشاہ درانی ،احمد شاہ درانی کے سپہ سالار سردار جہان خان خوگیانی اور اس کے وزیر اعظم شاہ ولی خان درانی ،امیر لشکر سردارعبداللہ خان درانی ، ارباب آزاد خان مہمند ،جان محمد درانی ،شہباز خان خٹک ، سردار فتح خان کمال زئی ،احمد شاہ درانی کے وزیر عدلیہ اخوندفیض اللہ خان ، سردار فیض طلب خان ، ارباب زادہ لشکر خان ،ارباب معزاللہ خان مہمند، نورالدین خان بامی زئی (حاکم کشمیر )نصراللہ خان اورکزئی (رئیس پشاور )اور نو ر محمد خان خوگیانی (حاکم پشاور ) خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
میا ں عمر ؒ باباچمکنی کی اولاد
حضرت صاحبزادہ محمدیؒ :۔
حضرت میاں عمرؒ صاحب کے دو صاحبزادے تھے۔بڑے بیٹے کا نام محمدی ؒ تھا آپ 1109ہجر ی کو چمکنی میں پیدا ہوئے۔حضرت میاں عمرؒ صاحب نے اپنے وفات سے پہلے اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر کیا ۔آپ پشتو زبان کے ایک بڑے شاعر ،ادیب ، ایک با کمال صوفی اور عالم تھے۔اسکے علاوہ عربی زبان میں بھی شعر گوئی کی۔آپ 1220ہجری میں وفات پا گئے۔آپ کا مزار اپنے والد حضرت میاں عمرؒ صاحب کے مزار کے احاطے میں واقع ہے۔آپ کی زوجہ حضرت مولانا شیخ اخوند جان محمد درانی کی بیٹی تھی۔جب وادی پشاور پر سکھوں کی حکومت آئی تو آپ کی زوجہ صاحبہ جندول معیار (علا قہ باجوڑ)گئی اور وہی وفات پا گئی ۔آپ کی مزار وہی پر واقع ہے۔
آپؒ کا تفصیلاً ذکر (شاعری(Poetry:میں ملاحضہ کریں۔
حضرت صاحبزادہ عبیداللہ میاں گلؒ :۔
حضرت میاں عمرؒ صاحب کے دوسرے بیٹے کا نام عبید اللہ تھا ۔آپ 1116ہجری کو چمکنی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کالقب میا ں گل تھا ۔آپ اپنے والد کے وفات کے بعد ریاست دیر میں قیام پذ یر تھے۔آپ اپنے بڑے بھا ئی کے وفات کے بعد واپس ائے اور سجا دہ نشین ہوئے اور یہ سلسلہ جاری رکھا ۔اسکے علاوہ آپ پشتو زبان کے نامور ادیب بھی تھے۔میاں گل،احمد ی ا ور غریب یہ تینوں آپ کے تخلص تھے۔آپ نے پشتو اور فارسی میں کتابیں لکھی اور شاعری بھی کی۔آپ کی تصا نیف میں عبر ت نامہ ،ھفت پیکراور تیسرا منظوم مناجات مشہور ہیں۔اسکے علا وہ آپ پانی پت کے مقام پر مرہٹو ں کے خلا ف احمد شاہ ابدالی کے ساتھ جہاد میں بھی شریک ہوئے۔آپ 1233ہجری میں وفات پا گئے۔آپ کا مزار اپنے والد حضرت میاں عمرؒ صاحب کے مزار کے احاطے میں دروازے کے سامنے پہلے نمر پر واقع ہے۔
* میاں گل ھم بیا لہ دادا جی ارشاد موند لے
ما دا با با جی کمال لہ دہ سرہ لید لے
گورہ د کمال منکر ئیے تل دے شرمید لے
دے چی وو سیرونو کی اللہ تہ رسید لے
یہ شعر عبیداللہ میاں گل نے اپنے بڑے بھائی محمدی صاحبزادہ سے بیعت کرنے کے بعد کہے تھے۔
آپؒ کا تفصیلاً ذکر(شاعری:Poetry) میں ملاحضہ کریں۔

زین النساء:
حضر ت میاں عمر ؒ بابا چمکنی کی صاحبزادیوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں اب تک صر ف ایک صاحبزادی کا نام معلوم ہو سکا ہے جن کا نام زین النساء تھا۔جو نہایت پاک دامن اور زاہدہ خاتون تھی۔آپ کاتبوں سے قرآن کریم کے نسخے لکھوا کرفی سبیل اللہ تقسیم کردیتیں۔جو قرآن مجید آپ نے کاتبوں سے لکھوائے تھے اس کے نسخے آج بھی موجود ہیں۔تصاوریر Galleryمیں ملاحضہ کریں۔
قرآن کریم کا ایک نسخہ جس کے آخر میں مندرجہ ذیل عبارت ہے۔
\”ایں قرآن مجید وفرقان حمید رابعہ ثانی خدیجہ درانی زین النساء بنت حمدۃالمتور عین قطب الاقطاب غوث الزماں حضر ت میاں عمرؒ بابا چمکنی حسبہ اللہ وقف کردہ 1231ھ (۱۲۳۱) \”
اس عبارت سے اگر ایک طرف ان کی عظمت پر روشنی پڑتی ہے تو دوسری طرف اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ زین النساء 1231ھ کو زندہ اور اپنی خاندانی روایات کے مطابق دینی خدمات میں سرگرم عمل تھی۔(قرآن مجید کے تصاویر Galleryمیں ملاحضہ کریں۔

حضرت میاں عمر ؒ بابا چمکنی کے تصانیف
اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت بابرکت زندگی عطا فرمائی تھی۔ جیسا کہ وہ خود ایک کتاب جس کا نام\” توضیح المعانی \”ہے اس میں بیا ن کرتے ہیں کہ میں نے پشتو ، فارسی اور عربی زبان میں بہت سے کتاب لکھے ہیں۔جیسا کہ وہ فرماتے ہے۔
تصانیف لہ دے فقیرہ چی عیان دی پہ فارسی پہ عربی کی نمایاں دی
پہ پختو جبہ ھم ما کڑی بسیار دی زنی زنی بیا مشہور پہ ہر دیار دی
ان میں سے مشہور کتابیں درج ذیل ہیں۔
1۔المعالی :۔ یہ کتا ب فارسی زبان میں لکھی گئی ہے اس کا یک نسخہ مولانا فضل صمدانی صاحب مرحوم کے کتب خانہ واقعہ بھانہ ماڑی پشاور میں محفوظ ہے۔
2۔شمس الھدیٰ :۔ یہ اس کتاب کا ایک نسخہ اسلامیہ کالج پشاور کے لائبریری میں موجود ہے جو کہ عربی زبان میں لکھی گئی ہے۔
3۔ ظواہر السرائر:۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ تمام تاریخی واقعات کے ساتھ سنین کا اہتمام کیا گیا ہے اور فارسی میں ہے۔اس کے چار نسخے مندرجہ ذیل مقامات پرمحفوظ ہیں ۔ 1۔ اورینٹل لائبریری پنجاب یونیورسٹی لاہور(شیرانی کلیکشن)
2۔کتب خانہ شیخ محمد محدث ، واقع رامپور انڈیا
3۔پشتو ادبی ٹولنہ لائبریری کابل
4۔کتب خانہ کرنل سید سلطان علی شاہ بنوری کوہاٹ۔
4۔شمائل نبویﷺ: یہ کتاب پشتو زبان میں لکھی گئی ہے اور یہ حضور ﷺ کے شمائل (طریقے) پر ایک مختصر کتاب ہے اس کا ایک نسخہ بھانہ ماڑی پشاور میں محفوظ ہے جبکہ دوسرا عبدالحلیم اثر صاحب ساکن تخت بھائی (مردان) کے پاس محفوظ ہے
5۔دَ پختنو نسب نامہ: اس کتاب میں افغان قوم کے شجرہ نسب کی تفصیلات درج ہے یہ پشتو زبان میں ہے اور تاریخی لحاظ سے بہت اہم ہے اس کتاب کا ایک نسخہ لندن میوزیم میں موجود ہے۔
وفات حضرت میاں عمر ؒ صاحب چمکنی
حضرت میاں عمر ؒ صاحب چمکنی 1190ھ بمطابق 1776ء کو جمعرات کے دن (یکم رجب )تقر یبا سو سا ل کی عمر میں وفات پا گئے۔
(انا للہ و انا الیہ راجعون)
حضرت میاں عمر صاحب ؒ اور اسکے دونوں صاحبزادوں محمدی اورعبیداللہ میاں گل ان دونوں کے وفات کے بعد انکے اولاد کا سلسلہ باقی نہیں رہا ۔البتہ جہا ں تک روحانی فیض سے تعلق رکھنے والوں کا تعلق جاری ہے اور انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔حضرت میاں عمر ؒ صاحب چمکنی کا مزار مو ضع چمکنی میں زیا رت گاہ خاص و عام ہے۔مزار کی عمارت پختہ ہے اور تاریخ پشاور نے حضرت صاحبزادہ محمدی کو اسکا بانی بتایا ہے۔ہر سال رجب کے پہلے ہفتے میں بدھ اور جمعرات کے درمیانی شب کو ایک تقریب منعقد ہوا کرتی ہے اور مشہور علماء کرام کو مدعو کر کے اس با کمال صوفی اور بزرگ کی حیات اور تعلیمات و ارشادات سے لو گو ں کو آگاہ کیا جاتا ہے۔