admin@chamkani.net | 0335-9687717

ولادت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۱۰۹ ؁ھ
وفات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۱۲۲۰ ؁ھ
حضرت مولانہ محمدی صاحبزادہ ؒ حضر ت میاں عمر ؒ بابا چمکنی کے بڑے بیٹے تھے۔جو کہ ۱۱۰۹ ؁ میں چمکنی میں پیدا ہوئے۔ دینی علوم اپنے والد محترم اور اس زمانے کے دیگر علماء سے حاصل کی۔ اور علوم شریعت میں درجہ کمال تک پہنچے تھے۔فاضل عالم، کامل محقق اور عربی ادب میں بڑا ادبی مرتبہ رکھتے تھے۔ طریقت اور معرفت کا علم بھی اپنے والد ماجد سے حاصل کیا۔آپ ؒ کو قدوۃ السالکین و زبدۃ العارفین کے اعلٰی القاب سے یا د کیا جاتا تھا۔حضرت میاں عمر ؒ بابا کے ایک مرید شیخ مولانہ دادین ؒ آپ کے متعلق لکھتے ہیں۔
پہ قللو دَجبال دَ جبروت کشی لکہ باز نسی کوتر پہ ناسوت کشی
چہ کثرت دَ دہ دَ(لآ) یوہ غڑیی دہ دہ خوڑلی دَ (الاّ) دَ غرہ جڑی دہ
لہ سائی چہ دَ پلار ھم ئے موندلے دَ حیرت ستنی مِ خُلہ دہ پرگنڈلی
حضرت میاں عمر ؒ بابا کے ا یک اور مریدحضرت میاں نو ر محمد قریشی ؒ آپ کے متعلق لکھتے ہیں۔
جانشین یی اوس پسر دے پہ ائین دَ خپل پدر دے
متابع دَ پیغمبر دے پسند کڑے جن بشر دے
ھم زما عاجز غریب سر و چشمان دے
چہ لہ بدو آذاد دے پہ نیک امر نیک ذادہ دے
ھم پہ شرہ استادہ دے (محمدی صاحبزادہ دے)
چہ پہ فضل دَ محبوب شوی دَ رحمان دے
سال ۱۱۹۰ ؁ھ جب حضر ت میاں محمد عمرؒ بابا کے وفات کے بعد آپ ؒ ان کی جگہ جانشین مقر ر ہوئے۔ اور مخلوقِ خدا کو علمی اور عرفانی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا اور آپ ؒ کے کتابوں میں آپ کے کشف ، کرامت اور ولایت کے بے شمار واقعات درج ہیں۔ لیکن ان کی روحانی فیض ابھی تک جاری ہے۔جو کہ دو خصوصیات پر مشتمل ہے۔ 
1۔ تالیفات و تصنیفات جو کہ رشد وہدایت کا سلسلہ ہے اور آج تک انسان کے روح اور جسم کو ایمان کی تازگی بخشتا ہے۔
2۔ والد کے وفات کے بعد انکی عظیم الشان جائیداد و املاک جو کہ آپؒ کو ورثے میں ملی آپ ؒ نے ان کی تمام تر آمدنی دینی علوم کی نشر واشاعت اور تعلیم کے لئے وقف کی۔سال ۱۲۱۱ ؁ ھ میں والد کے مزارکے ساتھ اسلامی علوم کے لئے ایک جامع مسجد تعمیر کی جو کہ اسلامی علوم کا درس گاہ بن گیا۔
اور اس کیساتھ ایک بڑا کتب خانہ قائم کیا اور بے شمار کاتبان کو نایاب کتابو ں کو نقل کرنے پر معمور کیا ان کاتبو میں محمد شفیق خٹک ، فتح خان چمکنی، ملا ولی قندھاری ، گل محمد پشاور ی نمبر۱، گل محمد پشاوری نمبر۲ خاص طور پر مشہور ہے۔اور آج تک جتنے بھی پشتو زبان کے ادبی و تاریخی قلمی نسخے ملتے ہیں ان میں اکثر حضرت محمد ی صاحبزادہ کے خرچ اور اس کی کوششوں کی مرہونِ منت ہے۔
تالیفات
۱۔مقاصد الفقہاء: یہ کتاب جو کہ عربی زبا ن میں ہے علمی اور ادبی اعتبار ایک خاص مقام رکھتا ہے۔۱۲۰۲ھ کو فتح خان ابن محمد سعید چمکنی نے اپنے ہاتھوں سے لکھا۔

۲۔درودِ محمدی: یہ آپ ؒ کی دوسری تالیف ہے۔جس کو درود محمدی کہتے ہے۔یہ کتاب نظم(مخمس) کی شکل میں ہے۔جس کے ہر ایک مصرعے میں حضور پاک ﷺ کا اسم مبارک (محمدﷺ) آیا ہے۔
والی ولا محمد عالی عُلا محمد
خالی خُلا محمد صلو اعلی محمد
تسلیم بر محمد
رشفِ عطا محمد نشفِ خطا محمد
کشفِ غطا محمد صلو اعلی محمد
تسلیم بر محمد
صبح ضیاء محمد تابع رضا محمد
ملکِ غناء محمد صلو اعلی محمد
تسلیم بر محمد
ھم مصطفیٰ محمد ہم مجتبیٰ محمد
ہم منتھیٰ محمد صلو اعلی محمد
تسلیم بر محمد
کو ہ علا محمد کان حیا محمد
لعلِ جلا محمد صلو اعلی محمد
تسلیم بر محمد
آخر میں لکھتے ہے۔
حُبّ خفی محمد ذکر جلی محمد
از حق ولی محمد صلو اعلی محمد
تسلیم بر محمد
بر چمکنی محمد بخشد سنی محمد
صد روشنی محمد صلو اعلی محمد
تسلیم بر محمد
یا ارشدی محمد یا مرشدی محمد
یا اسدی محمد صلو اعلی محمد
تسلیم بر محمد
طالب بُدی محمد تنہا شدی محمد
زود آمدی محمد صلو اعلی محمد
تسلیم بر محمد
بہ (محمدی) محمد نر سد بدی محمد
کہ تو امجدی محمد صلو اعلی محمد
تسلیم بر محمد
حضرت محمدی صاحبزادہ ؒ پشتو زبان کے بہت بڑے شاعر اورادیب تھے۔ اورچونکہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل بھی تھا۔عالم عارف تھے۔اسی وجہ سے آپ کا کلام مضمون اور معنی دونوں لحاظ سے بڑا عرفانی ، تصوفی اور ادبی مقام رکھتا ہے۔
وفات: حضرت محمدی صاحبزادہ ؒ ۱۲۲۰ھ میں وفات پاگئے ۔ آپکا مزار مبارک آپؒ کے والد ماجدکے مزار کے مشرق کی طرف مزار میں داخل ہونے کے بعد دوسر قبر ہے۔اور انوار کا مرکز ہے۔ آپکا کوئی بیٹا نہیں رہا۔ آپکی بیوی حضرت مولانا شیخ اخوند جان محمد درانی کی بیٹی تھی اور جب سال ۱۲۳۴ھ میں وادی پشاور پر سکھ حاکم بنے تو حضرت بی بی صاحبہ قبائلی علاقہ باجوڑ کے وادی جندول میں معیار نامی گاؤں میں رہائش اختیار کی اور پھر وہی پر وفات پاگئی اور مزار مبارک موضع معیار میں واقع ہے۔اِناّ للہ و اِناّ الیہِ راجِعون*

(روحانی رابطہ اور تڑون)