admin@chamkani.net | 0335-9687717

بدقسمتی سے ہر علاقے میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ تاریخ کاحصہ بن کر اپنے علاقے اور قوم کے لئے شرم کا باعث بن جاتے ہیں اسی طرح سکھ دور میں امن و امان بالکل نہ تھا ہر جگہ (خان)اس جگہ مالک ہوتاتھا سکھ ان (خان )کو جو زمین دیتے تو اس کے لئے عجیب شرط ہوتی تھی اور مختلف قسم کے سزائیں ان کی مخالفین کو دیتے مثال کے طور پر.
چمکنی کے خان کمال دین خان کو جو جاگیر ملی تھی وہ اس شرط پر ملی تھی کہ وہ ہر سال مقررہ رقم اجارہ کے علاوہ بیس20آفریدیوں کے سر کاٹ کر پیش کیا کرتے تھے اور وہ اس شرط کو پور ا کرنے کے لئے خان کمال دین خان طرح طرح کے حربے استعمال کرتے تھے 
بعض بزرگوں کے اقوال کے مطابق چمکنی گاؤں میں جو نامعلوم شہیدوں کے قبر ہیں جو اب تقریباً وقت کے ساتھ ختم ہوگئے اور کچھ کے نشان ابھی باقی ہیں یہ ان آفریدی نوجوانوں کی ہے جو سکھ سرکار کے خلاف تھے۔مثال کے طور پر خالد وقار چمکنی MPAکے ہجرے سے کچھ فاصلے پر ذکاء اللہ کے گھر کیساتھ ،دوسرا محلہ یاسین خیل مسجد شیخان کے سامنے احمد اللہ )کا مل استاذ)کے گھر میں،تیسرا محلہ چٖغہ خیل شاہد کمال ولد طاہر استادکے گھر میں ،چوتھا محلہ مصطفی خیل میں غلام محمدکے گھر میں ،پانچوان محلہ قصابان میں اَمان اللہ کے گھر میں۔چھٹامیاں صاحب چمکنی کے گھر میں۔اور جن کے قبریں اب بھی موجود ہیں اور تقریباً یہ وہی لوگ ہیں جو سکھوں کے مخالفین تھے ۔
محلہ یاسین خیل میں حاجی فقیرالرحمن کے حجرے کے باہر راستہ میں امانت ڈاکٹر کے گھر کیساتھ محلہ چغہ خیل میں راحت اللہ( Raco Adv) کے گھر کے سامنے ۔اسی طر ح محلہ مصطفی خیل میں سعید اللہ اورانعا م اللہ کے گھر میں ایسے شہداء موجودہیں۔