admin@chamkani.net | 0335-9687717

تحریک مجاہدین میں چمکنی کو ایک خاص مقام حاصل ہے یہ علاقہ شروع ہی سے اسلام پر جان قربان کرنے والوں جانساروں کا مسکن رہا ہے ۔پہلے تو احمد شاہ ابدالی کے ساتھ میاں عمرؒ صاحب کے سترہ ہزار مریدوں کا ایک لشکر پانی پت کے جہاد کے لئے گیا تھا اس لئے جو بھی مجاہد جہاد کے لئے جاتا چمکنی میں ضرور قیام کرتا ۔جب سید احمد شہید بالاکوٹ کے جہاد کے لئے پشاور سے روانہ ہوئے تو راستہ میں حضر ت شیخ میاں عمر ؒ صاحب کے اہل خاندان نے ان کی ضیافت کی اور پھرچمکنی سے روانہ ہوئے۔
سید ابولحسن ندوی بیان کرتے ہے کہ 
آج چمکنی سے سید احمد کوچ فرما کر دریائے لنڈہ پار کرنے کے بعد چارسدہ میں تشریف فرما ہوئے چند روز تک مجاہدین کے اس سرفروش قافلے نے چارسدہ میں قیام کیا لوگ دھڑا دھڑ مجاہدوں میں نام لکھو ا کر شامل جہاد ہوتے گئے چارسدہ سے چل کر موضع خوشیکی ہوتے ہوئے سید صاحب نوشہرہ کلاں پہنچے اور وہا ں چند روز قیام کیا اسی اثناء خبر ملی کہ سکھوں کا ایک لشکر جو سات ہزار آدمیوں پر مشتمل ہے سردار بدھ سنگھ کی کمان میں اکوڑہ خٹک پہنچ گیا ہے۔
سید صاحب نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد نوسو900آدمیوں کا انتخاب کیا اور اللہ بخش خان کو سالار مقرر کیا مجاہدین نوشہرہ کے پاس دریائے کابل کے شمالی کنارے پر تھے اور سکھ لشکر اکوڑہ میں دریائے کابل کے جنوبی کنارے پر ۔آدھی رات کو مجاہدین نے شب خون مارا اور تکبیر کے نعرے لگاتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے ایک سکھ پہرہ دار نے گولی چلائی اور وہ مولوی باقر علی عظیم آبادی کو لگی یہ سید صاحب کے جانساروں میں پہلے شخص تھے جنہیں شہادت کا درجہ ملا ۔
اس معرکے میں 36ہندوستانی غازی اور46قندہاری شہید ہوئے اور تقریباً30یا 40زخمی ہوئے اور اس کے مقابلے میں تقریباً700 سکھ ہلاک ہوئے اور دشمن کے ایک ہزار گھوڑے اور بہت سا جنگی سامان مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔