admin@chamkani.net | 0335-9687717


ولادت:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۱۱۶ھ 
وفات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۲۳۳ھ
حضرت عبیداﷲحضرت میاں محمد عمرؒ باباچمکنی کے چھوٹے بیٹے تھے۔ اپنے بڑے بھائی کے وفات (۱۲۳۰ھ)کے بعدانکی جگہ سجا دہ نشین ہوئے اور فیض اور علم کاسلسلہ جا ری رکھا۔ میاں گل اس کا لقب تھا اور اسی لقب سے زیادہ مشہور تھے۔حضرت میاں عمرباباؒ ان سے بہت محبت کر تے تھے اور کتاب تو ضیع ا لمعانی اس کیلئے تا لیف کیا اور اسی طرح آپکے بڑے بھا ئی حضرت محمدی صاحبزادہ آپ سے بہت زیا دہ شفقت اور محبت کر تے تھے اور آپکی خاطر اپنے مشہور کتاب مقا صد الفقھہ تالیف کیا ۔آپ ؒ دینی علوم کے بڑے فاضل عالم تھے اور فقہ اور علم عقائد کے بے شمار کتابوں پر حاشیے لکھے۔اورمطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک بڑے محقق عالم اورفاضل تھے۔حضرت مولا نا صاحبزادہ عبید اﷲ میاں گل نے اپنے والد ماجد سے طریقہ عالیہ نقشبندی سلسلے میں فیض حاصل کیا۔ اور ایک اعلٰی مقام رکھتے تھے حضر ت میاں محمد وسیم کاکا خیل آپکو (قطب جندولی) سے یاد فرماتے ہے۔ حضرت میاں گل عبیداللہ اپنے والد کے انتقال کے بعد (۱۱۹۰ھ) میں جندول ریاست دیر میں رہائش پزیر ہوئے اور اسی دوران اپنے بڑے بھائی حضرت محمدی صاحبزادہ سے تجدید کا بعیت حاصل کیا اور اپنے تالیف شجرہ طریقت میں لکھتے ہے۔
میاں گل ہم بیادَ داداجی ارشاد موندلے
ما دَ باباجی کمال لا دہ سرہ لیدلے
گورہ دَ کمال منکر ے تل دے شرمیدلے
دے چی وو سیرونو کی اللہ تا رسیدلے
قطب دَ اقطاب وو بابا جی غوثِ عالم
اسکے علاوہ آپؒ پشتو زبان کے ایک نامور ادیب تھے۔(میاں گل، احمدی ، غریب) یہ تینوںآپؒ کے تخلص تھے۔آپؒ کے تالیفات میں سے ایک اہم تالیف (عبرت نامہ) ہے جو کہ ایک اخلاقی اور تصوفی کتاب ہے۔دوسرا کتاب (ھفت پیکر) ہے جس میں تصوف و عرفان پر جیسے مضامین پر بیلغ کلام موجود ہے۔تیسری تالیف(منظوم مناجات )ہے ایک مناجات کے آخر میں یہ شعر لکھتے ہے۔
ما میاں گل رویی دَ حبیبؐ تالہ راوڑے
چہ مِ عفوہ کل خطا کی زما ربہ
وفات:حضرت میاں گل عبیداللہ ۱۲۳۳ھ کو وفات پاگئے آپکا مزار مبارک والد ماجد کے مزار کے ساتھ واقع ہے۔مزار میں داخل ہونے کے بعد پہلا قبر آپؒ کا ہے۔جو کہ مرکز انوار ہے۔ اِناّ للہ و اِناّ الیہِ راجِعون*